توبہ

2017 ,جنوری 7

بنت حوا

بنت حوا

تہذیب

bintehawa727@gmail.com



سہیل صاحب جس دفتر میں کام کرتے تھے اس دفتر کے ان کے ساتھی ہر ماہ تنخواہ کے علاوہ میڈیکل کی مد میں بھی کچھ رقم لے جاتے تھے...ان کا طریقہء کار (طریقہء واردات) یہ تھا کہ دفتر سے منسلک میڈیکل اسٹور کے مالک کی ملی بھگت سے اس کے اسٹور سے مختلف اشیاء مثلا" پرفیوم ، ٹیلکم پوڈر، چاکلیٹس، یا جوس وغیرہ کے ڈبے لیتے ..اور اس سے بل دوائی کا بنواتے اور دفتر کے منیجر کو بل دکھا کر کہ "ماں بیمار ہے "یا" باپ بیمار ہے" رقم وصول کرتے....منیجر کو بھی پتہ تھا کہ کیا ہو رہا ہے...مگر وہ خود بھی یہی کرتا تھا...اسٹاف کو کہاں روکتا....سہیل صاحب چونکہ نئے نئے دفتر میں آئے تھے ..لہٰذا انھیں اس طریقہء واردات کا علم نہیں تھا...
ایک بار انہوں نے اپنے ساتھی اصغر سے پوچھا کہ
"اب تمہاری ماں کی طبیعت کیسی ہے..."
تو وہ ہنس پڑا ...
"کونسی ماں...میری ماں کو تو مرے دس سال ہوئے..."
سہیل صاحب ہکا بکا رہ گئے..."ارے ہر مہینے تم اپنی ماں کے لئے دوائی لے کے جاتے ہو..."
اصغر بولا ..."ارے سہیل بھائی...کونسی دنیا میں رہتے ہو...یہ سب جتنے بھی ہیں...بشمول اس کالے منیجر کے ...یہ سب میڈیکل سے مختلف چیزیں لیتے ہیں اور بل دوائی کا بنواتے ہیں...آپ بھی چلو...آپ کو بھی امپورٹیڈ چوکلیٹس دلواتا ہوں...آپ کے بچے کھائیں گے..."
سہیل بھائی بولے "مگر یہ تو بے ایمانی ہوئی..."
اصغر زور سے ہنسا..."کونسی دنیا میں رہتے ہو....یہاں سب یہی کرتے ہیں....آؤ میرے ساتھ "
اصغر انکا ہاتھ پکڑ کر میڈیکل اسٹور لے گیا...
"لو بابو بھائی ! ایک اور گاہک آیا...اس کی بھی ماں بیمار ہے"
یہ کہہ کر اصغر نے زور سے قہقہہ لگایا...اسٹور کا مالک بابو بھائی بھی ہنسنے لگا....
سہیل بھائی چپ چاپ دیکھتے رہے...اصغر نے کچھ جوس کے ڈبے...کچھ امپورٹیڈ چوکلیٹس...اور ایک ٹیلکم پوڈر کا ڈبہ پیک کروایا ...اور ایک بل کٹوا کر سہیل بھائی کے ہاتھ میں دیا.."یہ لو...یہ بل کل اس کالے منیجر کو دینا ...کہنا ماں بیمار ہے "
سہیل بھائی ہچکچاتے ہوئے بولے "کوئی گڑ بڑ تو نہیں ہوگی؟"
اصغر بولا "ارے کچہ بھی نہیں ہوگا..." ہنستے ہوئے " خود منیجر کی ماں بیمار ہے...ابھی تم سے دگنی چوکلیٹس اور جوس کے ڈبے لے کے گیا ہے"
سہیل بھائی نہ چاہتے ہوئے بھی سارا سامان گھر لے کے گئے...گھر جا کے بیوی سے جھوٹ بولا کہ باس نے خوش ہو کے خود ہی یہ سارا سامان دیا ہے...پھر خود بیوی بچوں کے ساتھ مل کے خوشی خوشی چوکلیٹس کھائیں اور جوس پیا ....بیوی کو ٹیلکم پوڈر بھی دیا کہ یہ تمہارے لئے لایا ہوں..وہ خوش ہو گئی...غربت نے بیچاری کی رنگت کالی کر دی تھی...
سب کھا پی کے اپنے بستر میں چلے گئے...آدھی رات کو بیوی نے سہیل بھائی کو نیند سے اٹھایا...
"سنیے ...جلدی اٹھئے ...یہ دیکھئے گڈو کو کب سے الٹیاں ہورہی ہیں..."
سہیل بھائی ہڑبڑا کے اٹھے..."کیا ہوا؟"
"گڈو کب سے الٹیاں کر رہا ہے...دیکھئے یہ بالکل نڈھال ہو گیا ہے...ہم اسے جلدی کسی ہسپتال لے کے جائیں...." بیوی نے گھبراہٹ میں کہا...
"ہاں چلو..." سہیل بھائی رات کے کپڑوں میں ہی اٹھ کے فورا" بچے کو اٹھایا...اور سیدھے ہسپتال کی طرف دوڑے...بچے کو ہسپتال میں داخل کیا گیا...چوبیس گھنٹے میں دو ڈرپ گلوکوز کی لگیں...تب کہیں جا کے بچے کی طبیعت بحال ہو ...
سہیل بھائی نے نماز شکرانہ ادا کی..اور سجدے میں دیر تک روتے رہے...

"میرے مالک! مجھے معاف کردے ..آئندہ میں کبھی بھی بے ایمانی نہیں کروں گا...بس میرے بچے کو سلامت رکھ...میں توبہ کرتا ہوں..."

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقعی حرام ہر کسی کو راس نہیں آتا...۔۔۔۔کبھی نہ کبھی اللہ تعالیٰ کی پکڑ ضرور ہو جاتی پے۔اس لیے ہمیشہ حلال کمائے اور کھائیں۔۔۔

نوٹ:اگر آپ بھی اپنا کوئی کالم،فیچر یا افسانہ ہماری ویب سائٹ پر چلوانا چاہتے ہیں تو اس ای ڈی پر میل کریں۔ای میل آئی ڈی ہے۔۔۔۔

bintehawa727@gmail.com

ہم آپ کے تعاون کے شکر گزار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں