عمر فاروق ظہورکون؟ اپنی ہی بیٹیوں کو اغوا کیا۔کس کس ملک میں فراڈ کے کیس ہیں؟لائبیریا میں سفیر کیسے بن گیا

2022 ,نومبر 17



تحریر: فضل حسین اعوان 

بچوں پر ماں اور باپ دونوں کا یکساں حق تسلیم شدہ حقیقت ہے۔علیحدگی کی صورت میں معاملہ کورٹ میں جائے تو کورٹ انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کرتی ہے کہ بچے کس کے پاس اور کب تک رہیں گے۔بچے جس کے پاس بھی رہیں دوسرے کو ان سے ملنے کا حق دیا جاتا ہے۔بچوں کی شفقت تقسیم ہونے کی نوبت ہی کیوں آتی ہے؟ماں باپ دونوں میں سے ایک کسی بھی وجہ سے کمپرومائزپر آمادہ نہیں ہوتاتو اس کاخمیازہ دوسرے پارٹنرشاید کچھ عرصہ جبکہ بچوں کو زندگی بھر بھگتنا پڑتا ہے۔ایسا ہی ایک کیس سپریم کورٹ کے سامنے تھا۔یہ صوفیہ مرزا کا کیس ہے جو اب پاکستان سے باہر بھی دنیا کی توجہ حاصل کرچکا ہے۔

صوفیہ مرزا کے سابق شوہر عمر فاروق کے خلاف گھیرا تنگ – Khouj News
سپریم کورٹ میں ماڈل و اداکارہ صوفیہ مرزا کی بچیوں کی حوالگی کے کیس میں سیکریٹری خارجہ سہیل احمد سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، عدالت نے ایف آئی اے کو بچیوں کی واپسی کیلئے ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا اور کہا کہ چھ دن میں وزارت خارجہ، داخلہ، ایف آئی اے بچیوں کی واپسی کا مکمل لائحہ عمل تیار کرکے پیش کریں۔جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اداکارہ صوفیہ مرزا کی بچیوں کی حوالگی کے کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کی۔

میرا سابق شوہر میری بچیوں کو اغوا کر کے دبئی لے گیا: صوفیہ مرزا - ہم سب
سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ جن افسران نے بچیوں کی 12 سال سے واپسی پر غفلت برتی ان کی نشاندہی کریں۔سیکریٹری خارجہ نے بتایا کہ یو اے ای میں متعلقہ حکام سے بچیوں کی حوالگی کے معاملے پر رابطے میں ہیں۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا۔” متحدہ عرب امارات سے تو ہمارے نام نہاد برادرانہ تعلقات ہیں۔ کس قدر شرم کی بات ہے کہ ہم اتنے نااہل، نالائق اور پتھردل لوگ ہیں،ہم یواے ای کی اتنی خدمت کرتے ہیں، بچیاں واپس نہیں لاسکتے، نام لینا نہیں چاہتا لیکن کیسے کیسے لوگ ہمارے سروں پر پیر رکھ کر بیٹھے ہیں۔ پوری دنیا میں پاکستان کا مذاق اڑتا ہے، بھارت بھی تیسرے درجے کا ملک ہے مگروہ اپنے شہریوں کیلئے دوسرے ملکوں کا کیا حشرکرتا ہے۔“ چودہ فروری کو اسی کیس کی سماعت کودوران جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دئیے کہ کیا ہماری جرأت ہے کہ ہم جلد جواب مانگ سکیں؟ ہم تو بڑا کچھ قربان کرتے ہیں،کیا ہماری غلامی میں کچھ کمی آئے گی؟ کتنے سال ہوگئے اور ہم بچیوں کو نہیں لاسکے؟
یہ اتنی سی کہانی تو کورٹ کیا ایک آدھ سماعت کی ہے۔یہ کیس بارہ سال سے چل رہا ہے۔جڑواں بچیوں کی ماں صوفیہ کا کہنا ہے کہ اس کی بیٹیوں کو اغوا کیا گیا اور انہیں سمگل کرکے دبئی پہنچا دیا گیا جہاں وہ اپنے باپ عمر فاروق ظہور کے پاس رہ رہی ہیں۔صوفیہ اور عمر فاروق ظہور کی 2006ءمیں شادی ہوئی۔بچیوں کا نام زینب اور زنیرہ ہے۔ان کو جعلی ناموں پر دبئی بھیجا گیا۔محمد زبیر کو ان بچیوں کا باپ اور صدف ناز کو ماں ظاہر کیا گیا۔عمر فاروق ظہور کی ماں خالدہ ظہور کو بھی صوفیہ ملزم قرار دیتی ہے۔ صدف ناز کو ایک سال قبل ایف آئی اے نے گرفتار کرلیاتھا جس پر صوفیہ نے عمران خان حکومت کا شکریہ ادا کیاتھا۔ستمبر 2019ءکو ایف آئی نے صوفیہ مرزا کے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کی تصدیق بھی کی تھی۔

صوفیہ مرزا کی سابق شوہر کو مقدمات میں پھنسانے کی کوشش کا بھانڈا پھوٹ گیا
اب ذرا پتہ کریں کہ عمر فاروق ظہور کون ہے؟ کئی سال پہلے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین ججوں کے بنچ نے استفسار کیا تھا کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام ہونے کے باوجود عمر فاروق اپنی دو بیٹیوں کو لے کر بیرون ملک کیسے فرار ہوا۔اس وقت افتخار محمد چوہدری نے عمر فاروق کا پاسپورٹ منسوخ کرنے کا حکم بھی دیا تھا تاہم طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اصل ملزم عمر فاروق کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔
عمر فاروق ظہور پر کئی مقدمات ہیں۔وہ پاکستان کی عدالتوں اور کئی ممالک کو بھی مطلوب تھے۔ایک طرف ان کی سابق بیوی نے ان کے خلاف کیس کررکھا تھا تو دوسری طرف ان کے ریڈ وارنٹ بھی جاری ہوچکے تھے نام ای سی ایل میں تھا۔اس دوران ان کو لائبیریا میں پاکستان کا سفیرر بھی تعینات کردیا گیا۔تین جون 2021ءکولاہور ہائی کورٹ نے لائبیریا میں تعینات پاکستانی سفیر عمر فاروق ظہور کا نام ای سی ایل سے فوری نکالنے کا حکم دے دیا۔ عمرفاروق نے اپنا نام ای سی ایل سے نکلوانے اور اپنے خلاف جاری ریڈ وارنٹ ختم کروانے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔جسٹس شجاعت علی خان نے ان کے سفیر بننے کے بعد ان کے مقدمات میں استثنیٰ کے حق کو تسلیم کر لیاتھا۔عدالت کا اپنے تحریری فیصلے میں کہنا ہے کہ ویانا کنونشن کے تحت سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو فوجداری مقدمات میں قانونی استثنیٰ حاصل ہے۔ 

چاچا افلاطون on Twitter: "4/6) درج ہیں۔ عمر فاروق کے حقیقی بھاٸی عثمان ظہور  نے اسکے ساتھ بھی فراڈ کیا جس پر عمر فاروق نے اسے جیل یاترہ پر روانہ  کروایا۔جب کہ
 مقدمے کا پس منظر اداکارہ صوفیہ مرزا نے 2006 میں عمر فاروق ظہور سے شادی کی تھی اور ان کے ہاں جڑواں بچیوں کی پیدائش ہوئی، تاہم ان کی شادی زیادہ دیر نہ چل سکی۔دونوں بچیوں کی حوالگی کے لیے مقدمہ لاہور کی گارڈین کورٹ میں چلا جہاں عدالت نے دوبچیاں ماں کے حوالے کر دیں۔ بعد ازاں صوفیہ مرزا نے عدالت سے رجوع کیا کہ ان کے سابق شوہر نے دونوں بیٹیاں اغوا کر لی ہیں۔لاہور ہائی کورٹ نے ان کے سابق شوہر عمر فاروق ظہور کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا تھا۔ تاہم 2009 میں ایف آئی اے نے عدالت کوبتایا کہ وہ جعلی پاسپورٹ پر ملک سے فرار ہوچکے ہیں۔ہائی کورٹ نے ان کے ریڈ وارنٹ جاری کروانے کا حکم دیتے ہوئے انہیں بیرون ملک سے گرفتار کر کے واپس لانے کی ہدایات جاری کیں۔ اس دوران یہ مقدمہ تقریباً ایک دہائی سے زائد عرصے تک چلتا رہا۔اب عمرفاروق ظہور نے عدالت میں اپنے وکیل کے توسط سے درخواست دائر کی ہے کہ وہ لائبیریا میں پاکستان کے سفیر تعینات ہو چکے ہیں، لہٰذا ان کے خلاف جاری ریڈ وارنٹ کی کارروائی روکی جائے اور ان کا نام بھی ای سی ایل سے نکالا جائے۔ عدالت نے مقدمے میں صوفیہ مرزا کے فریق بننے کی درخواست بھی منظور کر لی اور وفاقی حکومت کو احکامات جاری کیے کہ عمر فاروق ظہور کا نام ای سی ایل سے فوری نکالا جائے۔ ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں دائر کیے جانے والے جواب میں کہا گیا تھا کہ عمر فاروق ظہور 2009 میں جعلی دستاویزات پر بذریعہ کراچی سے بیرون ملک فرار ہوئے تاہم ان کے ساتھ ان کی کم سن بچیاں نہیں تھیں۔عدالت نے بعدازاں دونوں بچیوں کے نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیے تھے کہ انہیں ملک سے باہر نہ لے جایا جا سکے۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں یہ بھی کہا ہے کہ حکومت فیملی کورٹ میں چلنے والے مقدمے میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

ماڈل صوفیہ مرزا کا سابق شوہر پر غلط کیسز بنوانے کا الزام
ایک سٹوری عمر فاروق ظہور کے کردار وکمالات کے بارے میں عمر چیمہ نے بھی بیان کی ہے:۔ ناروے میں مالیاتی جرائم میں مطلوب ایک مشتبہ شخص جس کا تعلق اب سابق ڈی جی، ایف آئی اے بشیر میمن سے ہے، اس شخص کو حکومت کے ہائی پروفائل اجلاسوں میں دیکھا گیا ہے اور سرکاری طور پر جاری تصاویر میں اسے دیکھا جاسکتا ہے۔ایف آئی اے ریکارڈ کے مطابق وہ شخص گزشتہ 14 برس میں (2006-2019) کے دوران 60 سے زائد مرتبہ پاکستان کا سفر کرچکا ہے۔ایف آئی اے ریکارڈ میں مزید کہا گیا ہے کہ مشتبہ شخص عمر فاروق ظہور کے خلاف انٹرپول نے ریڈ نوٹس منسوخ کردیا ہے کیوں کہ ناروے حکام نے انٹرپول کے سوالات کا جواب مقررہ مدت میں نہیں دیا۔ ایف آئی اے اپنے سابق سربراہ بشیر میمن کو ایک اور انکوائری میں شامل تفتیش کرنا چاہتی ہے تاکہ انہیں عمر فاروق ظہور کے کیس میں نتائج نہ دینے پر سزا دلوائی جاسکے۔بشیر میمن جب ڈی جی، ایف آئی اے تھے تو انہوں نے عمر فاروق ظہور سے ملنے والی درخواست آگے بھجوائی تھی۔عمر فاروق ظہور خلیجی ریاست کے شاہی خاندان کے ایک فرد کے قریبی ساتھی ہیں اور وہ پاکستان میں مختلف تقاریب میں ایک ساتھ دیکھے گئے ہیں۔ اب حکومت بشیر میمن کے گرد گھیرا تنگ کرنا چاہتی ہے۔جب کہ ان کی عمر فاروق ظہور کے ساتھ تصویر کو بطور ثبوت استعمال کیا جائے گا، جس میں شاہی خاندان کا وہ فرد بھی موجود ہے۔ اپریل، 2019 کو ہونے والے ایک اجلاس میں عمر فاروق ظہور ، شاہی خاندان کے فرد کے ساتھ فیصل واوڈا سے ملے تھے جو کہ اس وقت وزیر آبی وسائل تھے۔ 

عمر فاروق ظہور سے ملاقات وزیراعظم آفس کی ہدایت پر کی تھی، فیصل واوڈا
اس طرح کی ایک ملاقات وزیر اقتصادی امور عمر ایوب سے بھی ہوچکی ہے۔میڈیا میں شاہی خاندان کے فرد کی صدر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی خبر بھی سامنے آچکی ہے جو کہ نئے تعمیر شدہ خصوصی ٹیکنالوجی زون اتھارٹی کے حوالے سے تھی جس میں ٹیکنالوجیکل سرمایہ کاری کی بات تھی۔اس کے علاوہ پورٹ قاسم میں 5 کروڑ ڈالرز کے ایل پی جی ٹرمینل کا منصوبہ بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ شاہی خاندان کے فرد گیلیکسی ریسر پاکستان کا افتتاح کرنے بھی آئے جو انہوں نے گلوکار فخر عالم کے ساتھ شراکت داری میں بنوایا تھا۔تاہم اس حوالے سے تصاویر میں عمر فاروق ظہور نہیں تھے۔ عمر فاروق ظہور کے خلاف بینک فراڈ سے متعلق کیسز ناروے میں زیر التواء ہیں۔ جب کہ انٹرپول نے ان کی گرفتاری کے لیے ریڈ نوٹسز بھی جاری کیے تھے۔ ناروے نے انہیں یو اے ای سے انہیں بےدخل کروانے کی کوشش بھی کی تھی مگر ناکام رہی کیوں کہ دبئی کی عدالت نے اس کے خلاف فیصلہ سنایا تھا۔عمر فاروق ظہور کا کہنا ہے کہ انہیں غلط طور سے کیس میں ملوث کیا گیا ہے۔ انہوں نے بشیر میمن کو درخواست جمع کی تھی جو انہوں نے انٹرپول کو بھجوائی تھی۔ جس کے بعد انٹرپول نے ناروے کی رائے کے لیے یہ درخواست بھجوائی لیکن مقررہ مدت میں ناروے نے جواب نہیں دیا۔جس پر انٹرپول نے جزوی طور پر ریڈ نوٹس منسوخ کردیا۔ بشیر میمن پر مبینہ طور پر عمر فاروق ظہور کی سہولت کاری کا الزام ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ریڈ نوٹس منسوخ ہونے سے متعلق فیصلہ انٹرپول کا تھا جو سابق ڈی جی، ایف آئی اے کے اختیارات سے باہر تھا۔ 

عمران خان کا عمر فاروق ظہور کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان | Urdu  News – اردو نیوز
اس کی تصدیق ایف آئی اے اور انٹرپول کے درمیان ہونے والی پیغام رسانی سے ہوجاتی ہے۔

متعلقہ خبریں