ایسا ایٹمی بجلی گھر جسکا سائز مینار جتنا ہے

2017 ,جنوری 23



 

واشنگٹن (شفق ڈیسک) امریکی کمپنی نے ایٹمی بجلی گھر کا ایسا ڈیزائن تیار کرلیا ہے جو 50 میگاواٹ بجلی بناسکے گا لیکن اتنا چھوٹا ہوگا کہ ایک ٹرالر میں آسانی سے سما جائے گا البتہ اس کی اونچائی کسی 9 منزلہ مینار جتنی ہوگی کمپنی کا کہنا ہے کہ کسی چھوٹے علاقے میں ایسے کئی ایٹمی بجلی گھر پہلو بہ پہلو نصب کئے جاسکیں گے اور یوں بہت کم جگہ استعمال کرتے ہوئے کہیں زیادہ بجلی بنائی جاسکے گی۔ اندازہ ہے کہ ایسے ایک ایٹمی بجلی گھر پر تقریباً 95 لاکھ ڈالر لاگت آئے گی اور ایک بار ایندھن بھرے جانے کے بعد کم از کم 3 سال تک مسلسل بجلی حاصل کی جاسکے گی۔ اس ایٹمی بجلی گھر کا ڈیزائن تکنیکی جائزے کیلئے امریکی محکمہ توانائی کے پاس جمع کروا دیا گیا ہے جہاں سے منظوری ملتے ہی ایسے پہلے ایٹمی بجلی گھر کی تیاری شروع کردی جائے گی۔ کمپنی کے مطابق اگرچہ اس ایٹمی بجلی گھر کی دیکھ بھال کیلئے عملے کی ضرورت ہوگی لیکن مروجہ ایٹمی بجلی گھروں کی نسبت یہ ضرورت بہت کم ہوگی۔ علاوہ ازیں ناگہانی حادثات سے بچنے کیلئے بھی اس میں کم درجے خالص یورینیم استعمال کی جائے گی جب کہ دیگر حفاظتی اقدامات اس کے علاوہ ہیں۔محفوظ، کم خرچ اور چھوٹے بجلی گھروں کا یہ پہلا منصوبہ نہیں بلکہ Gen4Energy نامی ایک اور کمپنی اس سے پہلے ہی 25 میگاواٹ بجلی بنانے والی نیوکلیئر بیٹریز پر کام شروع کرچکی ہے۔ واضح رہے کہ اگرچہ ایٹمی توانائی کو دنیا میں کم آلودہ بجلی کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ اب تک اس وجہ سے کم خرچ نہیں بن پائی ہے کیونکہ کسی بھی ایٹمی بجلی گھر میں تابکاری سے بچاؤ اور اسی نوعیت کے دوسرے حفاظتی اقدامات کیلئے بہت زیادہ اخراجات کرنے پڑجاتے ہیں جو اسے مہنگا اور غریب ممالک کیلئے ناقابلِ برداشت بنادیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں