جنسی استحصال خواتین بڑھاپے میں انتہائی درد ناک حالت میں

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع جنوری 11, 2017 | 17:26 شام

میکسیکو سٹی (شفق ڈیسک) جسم فروشی کی چکا چوند دنیا میں جوانی گزارنے والی بدقسمت خواتین پر جب بڑھاپا آ جاتا ہے تو بازار میں کوئی انہیں دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔

تب یہ کسی حال میں زندہ رہتی ہیں، اس کی ایک جھلک میکسیکو کے دارالحکومت میں قائم ایک خصوصی مرکز میں رہنے والی معمر خواتین کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے جس کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں مل سکتی۔

اخبار دی مرر کی رپورٹ کیمطابق شہر کے مرکزی حصے میں زندگی کی چہل پہل اور رونق سے الگ تھلگ ایک پرانی اور بوسیدہ عمارت ہے جس کے اندر 300 کے لگ بھگ معمر خواتین رہتی ہیں۔

بظاہر تو یہ مرکز بھی معمر افراد کیلئے بنائے گئے کسی دوسرے مرکز جیسا ہے لیکن اس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں صرف وہی خواتین رہتی ہیں جنہوں نے اپنی ساری عمر جسم فروشی کرتے ہوئے گزاری ہے۔

مغرب کے دیگر ممالک کی طرح میکسیکو میں بھی جسم فروشی کا کلچر بہت عام پایا جاتا ہے لیکن معاشی عدم استحکام اور عمومی سماجی بدحالی کی وجہ سے یہاں ان خواتین کو بہت برے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انکی جوانی تو جنسی استحصال کا سامنا کرتے ہوئے گزر جاتی ہے لیکن جب بڑھاپا آتا ہے تو انہیں کوئی سہارا میسر نہیں آتا۔ انکی اکثریت کے حالات اس قدر قابل رحم ہو جاتے ہیں کہ یہ سڑکوں پر بھٹکتی اور برفانی راتوں میں فٹ پاتھوں پر ٹھٹھرتی نظر آتی ہیں۔

دارالحکومت کی سڑکوں پر بے سہارا پڑی ایسی درجنوں معمر خواتین کے حالات دیکھنے والی خاتون کارمن میونز نے بالآخر ان کیلئے ایک فلاحی مرکز قائم کرنیکا ارادہ کیا۔ وہ خود بھی جسم فروشی کے شعبے سے منسلک تھیں اور اپنے جیسی دیگر خواتین کیلئے کچھ کرنا چاہتی تھیں۔

کارمن کا کہناہے کہ انہیں یہ مرکز قائم کرنے کیلئے 20 سال تک جدوجہد کرنا پڑی جس کے بعد بالآخر حکومت نے شہر کے مرکزی حصے میں ایک عمارت ان کیلئے مختص کردی۔ کاشاشوکی کیٹزل کے نام سے شہر کے پرانے علاقے میں یہ مرکز 2006ء میں قائم کیا گیا اور اب 300 سے زائد سابقہ فروش خواتین یہاں مقیم ہیں۔

یہ خواتین کہتی ہیں کہ وہ دنیا سے یوں الگ تھلک رہ رہی ہیں گویا کوڑھ کی مریض ہوں

جنکے قریب آنا بھی کوئی پسند نہیں کرتا۔ لیکن وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ یہاں آنیکے بعد انہیں پہلی بار سکون اور تحفظ کا احساس ملا ہے۔

اگرچہ یہاں پہنچنے کے بعد ان میں سے اکثر ماضی کی زندگی سے نجات ملنے پر شکرگزار نظرآتی ہیں

مگر کچھ ایسی بھی ہیں جو اب بھی کبھی کبھار ماضی کی یادیں تازہ کرنیکی کوشش کرتی ہیں، لیکن پھر مایوس کر واپس لوٹ آتی ہیں۔ ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنیوالی جسم فروش خواتین کیلئے قائم کئے گئے دنیا کے اس واحد مرکز کی اندرونی زندگی کے مناظر پہلی دفعہ فوٹوگرافر بینی ڈکٹ ڈیسرز دنیا کے سامنے لائی ہیں۔

انہوں نے میکسیکو میں جسم فروش خواتین پر تحقیق کرتے ہوئے 8 سال صرف کئے اور اس تحقیق کی بنیاد پر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے۔