وجیہہ سواتی کا قتل........مدعی تگڑا ہو تو پاکستان میں بھی انصاف ملتا ہے

2022 ,نومبر 17



تحریر: فضل حسین اعوان
پاکستان میں عام آدمی انصاف کے حصول کے لیے خوار ہو جاتا ہے۔ طاقت اور پیسے کے زور پر فیصلے اپنے حق میں کرانے کا بھی ہمارے معاشرے میں چلن ہے۔ مدعی تگڑ اہو تو پاکستان میں بھی فیصلے سبک رفتاری اور قانون کے تقاضوں کے عین مطابق ہو جاتے ہیں۔ اس کی ایک تازہ ترین اور بہترین مثال وجیہہ سواتی قتل کیس ہے جو امریکی شہریت بھی رکھتی تھیں۔ انہیں ان کے اس خاوند نے قتل کر کے نعش دبا کر پکا فرش بنا دیا تھا۔ امریکیوں نے اس کیس کی پیروی کی اور ملزم کو سزائے موت دلا دی۔ اس کیس کا ایک سے ایک پہلو حیران کن ہے۔ وجیہہ سواتی کا پہلا شوہر قتل ہو گیا تھا۔ وہ کون تھا؟ کیسے قتل ہوا؟ دوسرے شوہر کااس قتل سے کیا تعلق تھا؟ کیا وجیہہ بھی اس میں ملوث تھی؟۔ اس نے اپنا مذہب کیوں چھپایا؟۔ فیصلے کے وقت امریکی ایف بی آئی اور سفارت خانے کے ساتھ آٹھ لوگ بھی عدالت میں موجود تھے۔ ملاحظہ کیجئے وجیہہ سواتی قتل کیس کی انکشافات سے معمور کہانی:

وجیہہ سواتی قتل کیس: سابق شوہر کو سزائے موت، شریک ملزمان کو قید کی سزا -  BBC News اردو
پاکستانی نژاد امریکی خاتون وجیہہ سواتی کے قتل کے مرکزی ملزم اور مقتولہ کے سابق شوہر رضوان حبیب بنگش کو سزائے موت سنا دی گئی۔
راولپنڈی کی عدالت میں وجیہہ سواتی قتل کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کی۔ دوران سماعت کمرہ عدالت میں 6 ملزمان کے علاوہ امریکی سفارت خانہ کے 4 سینئر اہلکاراور ایف بی آئی ٹیم بھی موجود تھی۔ امریکی ایف بی ا?ئی افسر نے فیصلے کو بہترین قرار دیا۔عدلت نے رضوان حبیب کو سزائے موت اور 10 سال قید کی سزا سنائی جبکہ اس کے باپ ملزم حریت اللہ اور ملازم سلطان کو 7، 7 سال قید کی سزا سنائی گئی ہےجبکہ شریک ملزمان یوسف، زاہدہ اور رشید کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا گیا۔
 وجیہہ فاروق سواتی 16 اکتوبر 2021 کو راولپنڈی پہنچنے کے بعد لاپتا ہو گئی۔وجیہہ فاروق سواتی کی گمشدگی کے بعد ان کے لاپتا ہونے کی ایف آئی آر حیات آباد پشاور کے عبداللہ مہدی علی نے درج کروائی جنہوں نے اپنی شناخت وجیہہ فاروق کے بیٹے کے طور پر کروائی۔
دسمبر 2021 رضوان حبیب بنگش نے اپنی 47 سالہ سابقہ اہلیہ وجیہہ فاروق سواتی کو قتل کرنے اور لاش لکی مروت میں اپنے نوکر کے گھر دفنانے کا اعتراف کرلیا تھا۔4 جنوری 2022 تک پولیس نے اس قتل کیس میں 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا جن میں رضوان حبیب بنگش کے والد حریت اللہ اور اس کا نوکر سلطان بھی شامل تھے۔ رضوان حبیب بنگش کے علاوہ دیگر پانچوں ملزمان پر قتل میں معاونت اور اس کی حوصلہ افزائی کا الزام تھا۔
تھانہ مورگاہ میں درج مقدمے کے مطابق رضوان حبیب نے کروڑوں روپے کی جائیداد کی خاطر اپنی سابقہ بیوی وجیہہ کا قتل کر کے لاش اپنے گھر کے کمرے میں دبادی تھی۔ بعد میں مقتولہ کی لاش کو امریکہ منتقل کیا گیا۔

وجیہہ سواتی قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا
پولیس کے مطابق مرکزی ملزم رضوان حبیب کو پولیس نے وجیہہ سواتی کی پاکستان میں گمشدگی کے لگ بھگ ڈیڑھ ماہ بعد گرفتار کیا تھا اور دوران تفتیش انھوں نے انکشاف کیا تھا کہ انھوں نے وجیہہ کو 16 اکتوبر کو قتل کر دیا تھا۔
نامہ نگار حمیرا کنول کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گذشتہ سال اکتوبر میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) سے لاپتہ ہونے والی امریکی شہری وجیہہ سواتی کی لاش پولیس کو خیبر پختونخوا کے علاقے لکی مروت سے ملی تھی جہاں انھیں ایک مکان کے کمرے میں دفن کر ا±س کے اوپر فرش پکا کر دیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق ان کے سابقہ شوہر رضوان حبیب نے بعدازاں اس قتل کا اقرار کیا تھا۔
اپنے اعترافی بیان میں ملزم نے قبول کیا کہ انھوں نے اپنی سابقہ بیوی کو چھریوں کے وار کر کے قتل کیا تھا۔
پولیس تفتیش کے مطابق ا±ن کی لاش کو ایک گاڑی کے ذریعے قالین میں لپیٹ راولپنڈی سے لکی مروت منتقل کیا گیا۔
پولیس نے ملزم کے انکشاف پر مقتولہ کی لاش لکی مروت کے علاقہ پیزو سے برآمد کی تھی۔ ایس ایچ او امیر خان نے بتایا تھا کہ ’وہ پہاڑ کے دامن میں پتھروں سے بنا ایک گھر تھا جو اس وقت خالی تھا۔ ملزم کی نشاندہی پر ہم ایک کمرے میں گئے جس کے فرش کے نیچے مقتولہ کو دفن کیا گیا تھا۔‘
جس دوران فرش کو کھودا گیا۔ دو سے ڈھائی گھنٹے لگے اور گڑھا چار فٹ سے زیادہ گہرا تھا اور لاش گل سڑ چکی تھی۔‘
ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ یہ رضوان کی پہلی بیوی کا آبائی علاقہ ہے اور یہیں اس کا اپنا ننھیال بھی ہے۔ تاہم یہ گھر جہاں سے لاش ملی وہ اسے کے ایک ملازم (جسے سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے) کا ہے اور اسے بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ وجیہہ فاروق سواتی اپنی لاکھوں روپے کی جائیداد رضوان حبیب سے واپس مانگ رہی تھی جو انہوں نے طلاق سے قبل اپنے شوہر کے نام منتقل کی تھی۔

46 سالہ وجیہہ سواتی کا تعلق پاکستان کے شہر ایبٹ آباد سے تھا۔ وہ امریکہ میں کئی برسوں سے رہائش پذیر تھیں اور فقط چار روز کے لیے پاکستان آئی تھیں۔ ان کے تین بیٹے ہیں۔ وہ تقریباً ہر سال پاکستان آتی تھیں، ان کے پہلے شوہر کو جو کہ ایک ہارٹ سپیشلسٹ تھے پاکستان میں 2014 ءمیں ٹارگٹ کلنگ میں قتل کیا گیا تھا۔
وجیہہ اپنے شوہر کا آلات جراحی کا کاروبار بھی سنبھالتی تھیں اور پراپرٹی سیکٹر میں انویسٹ کرتی رہتی تھیں۔ انھوں نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا تھا۔
ایڈووکیٹ شبنم اعوان کے مطابق وجیہہ کی رضوان سے پہلی ملاقات یو اے ای میں ایک بروکر کی حیثیت سے ہوئی۔وجیہہ کے خاندان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں پہلے نہیں معلوم تھا کہ میاں بیوی میں کیا جھگڑا ہے کیونکہ انھوں نے یہ شادی اپنی مرضی سے کی تھی اور اس کے بعد سے خاندان والوں سے ان کا رابطہ کم رہا تھا۔‘
وجیہہ کی رضوان سے طلاق ہو چکی تھی جو کہ ان کے دوسرے شوہر تھے۔ 
اردو پوائنٹ کی مقدس فاروق اعوان کے مطابق وجیہہ سواتی کے قتل کیس کی تحقیقات کا دائرہ بڑھا دیا گیاتھا۔راولپنڈی پولیس نے وجیہہ سواتی کے پہلے شوہر کے قتل کی تحقیقات میں رضوان حبیب کو شاملِ تفتیش کر لیا تھا۔ تحقیقات میں رضوان حبیب والد کا نام بھی آتا تھا۔
 وجیہہ سواتی کے پہلے شوہر ڈاکٹر بشیر المہدی کو مئی 2014ءمیں قتل کیا گیا ۔اس کے چند ماہ بعد رضوان نے وجیہہ سواتی سے شادی کی ۔

پاکستانی نژاد امریکی خاتون وجیہہ سواتی کے قتل کے مرکزی ملزم سابق شوہر کو  سزائے موت سنا دی گئی

 رضوان حبیب نے اعتراف کیا تھا کہ پولینڈ جا کر پناہ لینے اور شہریت لینے کا منصوبہ بنایا تھا، پاسپورٹ حاصل کر لیا تھا۔ پولیس کے سامنے دورانِ تفتیش رضوان حبیب نے انکشاف کیا کہ والد نے کہا تھا کہ وجیہہ کو قتل کرنے میں صرف 50 ہزار روپے لگیں گے۔ رضوان نے مقتولہ سے جائیداد کے تنازع کا اعتراف کیا۔ملزم نے پولیس کو بیان دیا کہ وجیہہ ڈی ایچ اے راولپنڈی کا گھر اپنے نام کروانا چاہتی تھی۔سی پی او راولپنڈی کا کہنا ہے کہ مقتولہ وجیہہ کے سابق شوہر رضوان نے 16 اکتوبر کو وجیہہ کو ایئر پورٹ سے ریسیو کیا، ساتھ لے جا کر قتل کردیا۔

اب اس بہیمانہ قتل کے سب سے حیران کن پہلو کا ذکر کرتے ہیں۔
2014ءمیں ربوہ میں ڈاکٹر بشیرمہدی کا قتل ہوا تھا جو کہ ماہر امراض قلب تھے۔ ایک موقع پر رضوان حبیب سے اس قتل کی تفتیش کرنے کی چاپ سنائی دی تھی۔ڈاکٹرمہدی وجیہہ سواتی کے پہلے شوہرتھے۔ انہیں ربوہ میں قائم طاہر انسٹی ٹیوٹ میں قتل کیا گیا تھا۔ اس قتل کے کچھ ہی ماہ بعد وجیہہ سواتی نے دوسری شادی کر لی تھی۔چناب نگر پولیس کو ڈاکٹر مہدی کے قتل کے حوالے سے کچھ معلومات ملی تھیں جس پررضوان حبیب سے پولیس تفتیش کرنا چاہتی تھی۔ایف آئی آر کے مطابق ڈاکٹر مہدی کو احمدی ہونے کے باعث قتل کیا گیا تھا۔ ان کے جسم میں 15 گولیوں کے نشانات تھے۔وجیہہ سواتی کے قتل میں رضوان حبیب کی گرفتاری ہوئی تو پولیس نے کڑی سے کڑی ملانے کی کوشش کی اور خدشہ ظاہر کیا رضوان نے ڈاکٹر مہدی کو وجیہہ سے دوسری شادی کرنے کےلیے قتل کیا۔
سماءنیوز کے مطابق وجیہہ اور ڈاکٹر مہدی کا تعلق احمدی مذہب سے تھا۔ ایک دستاویز میں درج ہے کہ رضوان نے وجیہہ سے شادی کے لیے کافی عرصے بعد احمدی مذہب اختیار کیا۔ رضوان اور وجیہہ کا نکاح قاری غلام مصطفی نے پڑھایا۔ وہ جیوڈیشل کمپلیکس پشاور کے امام تھے۔یہ شادی احمدی طریقے سے نہیں ہوئی جہاں جماعت احمدیہ کے تحت نکاح رجسٹرڈ کیا جاتا ہے۔ میرج سرٹیفیکیٹ کے مطابق رخصتی کے وقت دلہن (وجیہہ ) کو دولہا (رضوان ) کی جانب سے 25 لاکھ روپے نقد اور 50 تولہ سونے کے زیورات بطور مہر موجل ادا کرنا تھے۔دولہا نے دلہن کو زمین، ماہانہ خرچ اور دکانیں بطور مہر غیر موجل دینے کا کہا تھا۔ دولہا کی جانب سے اپنی آبائی زمین کا مکمل حصہ دلہن کے نام کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ اس نے دلہن کے نام سندھ کے شہر بدین میں 32 ایکڑ زمین دینے کا بھی وعدہ کیا تھا۔
رضوان نے وجیہہ کو ضلع ہنگو کے دو مقامات پر ایک کنال زمین دینے کا بھی کہا تھا۔ اس کے علاوہ ہنگو میں 40 دکانوں والی ایک مارکیٹ اور بطور جیب خرچ 20 ہزار روپے ماہانہ دینے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ رضوان کو پابند کیا گیا کہ وہ وجیہہ کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کرے گا۔
مگر میرج سرٹیفیکیٹ میں کچھ غلطیاں موجود تھیں۔ وجیہہ سے متعلق اس میں درج ہے کہ وہ شادی کے وقت کنواری تھیں اور ان کی عمر رضوان سے 3 برس کم تھی۔ تاہم شادی کے وقت وجیہہ عمر میں رضوان سے 17 سال بڑی اور 3 بچوں کی ماں تھی۔وجیہہ کے قومی شناختی کارڈ کے مطابق ان کی پیدائش 23 اکتوبر 1976 ہے جب کہ رضوان کی پیدائش 15 مارچ 1993 کو ہوئی۔ وجیہہ کو شناختی کارڈ سال 2011 میں جاری کیا گیا اور وہ 2031 تک کارآمد تھا۔ انہوں نے پہلی اور دوسری شادی کے بعد نادرا کے ریکارڈ میں اپنا نام تبدیل نہیں کیا۔ ان کے قومی شناختی کارڈ میں آخر تک ان کے والد کا نام عمر فاروق سواتی درج تھا۔
 پاکستان جانے اور لاپتہ ہونے سے 6 ماہ قبل وجیہہ نے اپنی شادی ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ انھوں نے 6 مارچ 2021 کو اسلام آباد کی لال مسجد سے فتویٰ لیا تھا۔ اس میں انھوں نے بتایا تھا کہ وہ سنی مسلمان ہیں اور ان کے شوہر رضوان احمدی ہوگئے ہیں۔
انھوں نے مفتی صاحب سے سوال کیا تھا کہ اس صورت میں کیا ان کی شادی قائم رہ سکتی ہے جب کہ ان کے شوہر نے احمدی مذہب اختیار کرلیا ہے۔ لال مسجد دارالافتاء کے مفتی حبیب سلمان نے فتویٰ جاری کیا اور اس شادی کو ختم قرار دیا۔
فتویٰ حاصل کرنے کے بعد وجیہہ نے ایبٹ آباد کی فیملی کورٹ میں شادی ختم کرنے کے لیے درخواست دائر کی تاہم انھوں نے اس درخواست کے ساتھ لال مسجد سے لئے گئے فتویٰ کی کاپی منسلک نہیں کی۔
سماءسے بات کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں وجیہہ سواتی کے بیٹے کی وکیل شبنم نواز نے بتایا کہ یہ شادی ختم ہونے کے لیے صرف فتویٰ پر انحصار نہیں کیا گیا بلکہ طلاق نامہ بھی سامنے آیا جس پر رضوان کے دستخط بھی تھے۔100 روپے مالیت کے اس اسٹمپ پیپر پر 10 نومبر 2020 کی تاریخ درج تھی۔ تاہم وجیہہ نے یہ طلاق نامہ فیملی کورٹ میں کبھی جمع نہیں کروایا۔ ڈاکٹر مہدی کے ایک رشتہ دار کے مطابق وجیہہ اور ڈاکٹر مہدی کے بڑے بیٹے کا نام عبداللہ ہے جس کی عمر 23برس ہے اور وہ نیویارک میں ڈاکٹر مہدی کے رشتہ دار کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ 
 

متعلقہ خبریں