دنیا کے دس معروف ممنوعہ ناول

2019 ,ستمبر 12



(1) فینی ہل/ جان کلیولینڈ (1748) ۔اقتباس

"عورت کے لمحات مسرت کی خودنوشت کے عنوان سے برطانوی ناول نگار جان کلیولینڈ (پ:1709، م:1789) نے 1748 میں پس زنداں جب خطوط کی شکل میں ایک 15 سالہ لڑکی فینی کی سوانح بطور ناول تحریر کیا تو شاید اسے گمان نہیں تھا کہ ایک دن یہ ناول انگریزی ادب کا پہلا فحش شاہکار قرار پائے گا۔ انگریزی ادب کی تاریخ کی یہ ایسی پہلی تحریر باور کی جاتی ہے جس کے ذریعے فحش نگاری، ناول کی شکل میں پیش کی گئی۔ پھر یہ ناول قانون کی گرفت میں آیا اور آخرکار یہ فحاشی کا مترادف تک قرار پایا۔ ادبی دنیا میں عام طور سے مشہور اس ناول "فینی ہل" کو دو قسطوں میں شائع کیا گیا تھا۔ 

یعنی نومبر 1748 اور پھر فروری 1749 میں۔ اس کے ناشرین دو بھائی فینٹن گرفتھس اور رالف گرفتھس تھے۔ فوری طور پر تو کوئی حکومتی رد عمل سامنے نہیں آیا لیکن ناول کی اشاعت کے تقریباً ایک سال بعد مصنف کلیو لینڈ اور ناشر رالف گرفتھس کو شاہی حکم پر حراست میں لے لیا گیا۔ الزام یہ عائد کیا گیا کہ انھوں نے بادشاہت کی شبیہ کو بگاڑنے کے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ عدالت میں ناول سے دستبرداری پر جان کلیو لینڈ بہرحال حکومتی سزا سے محفوظ رہے۔ لیکن چونکہ اس مقدمہ سے ناول کی تشہیر ہو چکی تھی لہٰذا، اس کے جعلی ایڈیشن بازار میں پھیل گئے۔ حتیٰ کہ کہا گیا کہ ناول کے آخر میں موجود امردپرستی کا ایک منظر (جسے ناول کی مرکزی کردار فینی تنفر کے عالم میں دیکھتی ہے ) بطور اضافہ شامل کیا گیا لیکن 1985کے آکسفورڈ ایڈیشن میں پیٹر صبور نے تصدیق کی کہ یہ منظر ناول کے سب سے پہلے ایڈیشن میں بھی موجود رہا ہے۔انیسویں صدی میں تو یہ ناول خفیہ طور پر کافی فروخت ہوا۔ لیکن1963 میں جب ایک اور متنازعہ ناول "لیڈی چیٹرلیز لو ٭جہ سے مج (3) بکرے کے گرم گرم کور" کا مقدمہ ناکام ہوا تب اشاعتی ادارے مے فلاور بکس کے گیرتھ پاول نے جرأت دکھاتے ہوئے "فینی ہل" کا غیرسنسر شدہ پیپر بیک ایڈیشن شائع کیا۔

اگرچہ اس ناول کی کھلے عام اشاعت سے چند دن قبل ہی پولیس کو اس بابت علم ہو چکا تھا کہ اس نے لندن میں رالف گولڈ کی جانب سے چلائی جانے والی کتابوں کی ایک دکان پر اس کا اشتہار دیکھ لیا تھا۔ پھر ایک پولیس عہدیدار نے ناول کی ایک کاپی خریدی اور اسے علاقے کے مجسٹریٹ سر رابرٹ بلنڈل کے ہاں پہنچا دیا جنھوں نے دکان کی تلاشی کا وارنٹ جاری کیا۔ نتیجے میں دیگر پولیس عہدیدار وارد ہوئے اور دکان میں موجود171 کاپیوں کو ضبط کرتے ہوئے دکان مالک رالف گولڈ کو فحاشی ایکٹ سیکشن نمبر3کے تحت حراست میں لے لیا۔ حالاں کہ اس وقت تک اس ناول کی 82 ہزار کاپیاں فروخت ہو چکی تھیں۔ عجیب بات تو یہ رہی کہ ناول "فینی ہل" یا اشاعتی ادارے "مے فلاور"کی جگہ دکان مالک رالف گولڈ پر مقدمہ دائر کیا گیا، گو کہ مے فلاور نے ہی قانونی اخراجات ادا کیے تھے۔ مقدمہ 1964 میں شروع ہوا۔ مدعی علیہ کا کہنا تھا کہ یہ ناول عمومی جنسیت کی مثال ہے جو واہیات تو ہو سکتی ہے لیکن اسے فحش نہیں کہا جا سکتا۔ مگر استغاثہ نے ناول کے بعض عبارتی حوالوں کے ساتھ مدعی علیہ کی بات کو غلط ثابت کرتے ہوئے مقدمہ میں فتح حاصل کی۔ مے فلاور نے اپنی ناکامی پر کوئی اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ البتہ اس مقدمہ نے فحاشی کے قوانین اور معاشرتی حقائق کے درمیان بڑھتے ہوئے تفاوت کو نمایاں کرنے میں موثر کردار ادا کیا تھا۔ پھر 1970میں اس ناول کا ایک غیرسنسر شدہ ایڈیشن دوبارہ شائع کیا گیا۔

1821میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اس ناول پر شہوانی جذبات کے فروغ کے الزام میں پابندی لگا دی گئی تھی۔ 1963میں پبلشر پوتنام نے اصل مصنف کے نام سے "عورت کے لمحات مسرت کی خودنوشت" کو جیسے ہی شائع کیا، فوراً ہی اس پر پابندی عائد کر دی گئی جسے ناشر نے عدالت میں چیلنج کر دیا۔ پھر 1966 کے اپنے تاریخ ساز فیصلے میں امریکا کے سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ یہ ناول روتھ کے قائم کردہ فحش نگاری کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔

اس کے بعد 1973 میں "ملر ٹسٹ" نافذ العمل ہوا جس کے نتیجے میں "فینی ہل" پر عائد پابندی اٹھا لی گئی۔ کہا گیا کہ اگرچہ یہ ناول شہوت انگیزی میں دلچسپی رکھنے والوں کو زیادہ متوجہ کرتا ہے، لیکن کلی طور پر یہ ادبی یا فنکارانہ اقدار سے محروم نہیں ہے۔ فنون لطیفہ کے مشہور تاریخ داں جوہان ونکل مین نے اپنے ایک خط میں ناول کی تحسین کرتے ہوئے لکھا کہ "نفیس احساسات اور اعلیٰ خیالات اس ناول میں ایک بلند پایہ قصیدے کی شکل میں بیان ہوئے ہیں۔ "

متعلقہ خبریں