ذوالفقار علی بھٹو اور حسنہ شیخ: ایک پس پردہ محبت کی کہانی

2022 ,مارچ 5



ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی زندگی میں کم ہی لوگوں نے حُسنہ شیخ کا نام سنا ہوگا لیکن اقتدار سے علیحدگی کے بعد یہ قصہ سامنے آیا اور پھانسی کی سزا کے بعد اس کی مختصر خبر بعض اخبارات میں چھپی۔ میں ہفت روزہ ’’صحافت‘‘ کا ایڈیٹر تھا۔ میرے جی میں آیا کہ حُسنہ شیخ کی تصویر تلاش کی جائے اور معلومات جمع کی جائیں کہ یہ خاتون کون ہے اور بھٹو صاحب سے اس کی شادی کی خبر درست ہے یا محض اخباری خبریں ہیں۔ کئی روز تک میں اس کی کھوج لگاتا رہا اور بالآخر ایک ایسی خاتون اور ایسے گھر تک پہنچ گیا جن سے میری بہت اچھی جان پہچان تھی۔ حنیف رامے کی وزارت اعلیٰ کے زمانے میں راجہ منور احمد جو لاہور میں مال روڈ پر واقع شیزان ریسٹورنٹ میں بیٹھنے والے گپ باز گروہ کے رکن تھے۔ پنجاب اسمبلی کے ممبر ہونے کے علاوہ رامے صاحب کے چیف ایڈوائزر بھی رہے تھے سے میری بہت دوستی تھی اور رامے صاحب وزارت اعلیٰ سے ہٹائے گئے تو ان کی کابینہ بھی تحلیل ہوگئی۔ اس کابینہ کے ایک رکن ملتان کے نواب محمد خان خاکوانی بھی تھے جنہیں دوستوں میں ایم کے خاکوانی کہا جاتا تھا اور گھریلو نک نیم ’’مو‘‘ تھا۔ ان کی بیگم شاہین خاکوانی آگے چل کر خود بھی پنجاب اسمبلی کی رکن بنیں ۔ وہ پنجاب کے سابق چیف سیکرٹری شہزادہ عالمگیر کی صاحبزادی تھیں۔ بہت خوبصورت اور حاضر جواب خاتون تھیں۔ راجہ منور ماشاء اللہ آج بھی حیات ہیں۔ البتہ شاہین خاکوانی شوہر کی زندگی ہی میں شاہین منور بن گئی تھیں۔ ایم کے خاکوانی نے حنیف رامے کا ساتھ دیا اور رامے صاحب راجہ منور کے ساتھ جیل گئے جہاں شراب بھی ان کے ساتھ گئی کیونکہ وہ اس کے بغیر رہ نہیں سکتے تھے۔ یہ تینوں حضرات قانونی طور پر ’’بھٹو پھٹو‘‘ پمفلٹ کی تیاری‘ اشاعت اور تقسیم کے جرم میں پکڑے گئے تھے۔ میں بھی انہی دنوں سپریم کورٹ میں رامے صاحب کے بیان حلفی جو بھٹو صاحب کیخلاف الزامات سے پُر تھا کی اشاعت اور اردو ڈائجسٹ میں ترجمہ شائع کرنے پر گرفتار ہوا اور اسی ٹولی کے ہمراہ مقدمہ بھگت رہا تھا۔ بہرحال کسی نے مجھے بتایا کہ ’’لڑکا بغل میں ڈھنڈورا شہر میں‘‘ کے مصداق تم خود سینکڑوں مرتبہ اس گھر میں جاچکے ہو جہاں کئی مرتبہ حُسنہ شیخ بطور خاص بھٹو صاحب سے ملنے آئیں اور میزبان خاتون بیگم شاہین تھیں۔ میں فوراً گلبرگ مین مارکیٹ میں بک وے سے تھوڑا آگے بائیں ہاتھ مڑنے والی سڑک پر واقع ایم کے خاکوانی کے گھر پہنچا۔ میری میاں بیوی سے بہت بے تکلفی تھی محمد خان خاکوانی گھر پر نہیں تھے البتہ شاہین مجھے مل گئیں۔ دنیا کے ہر موضوع پر بلاتکلف گفتگو میں ماہر تھیں۔ میں نے فوراً ہی مدعا بیان کیا تو وہ ہنسنے لگیں اور بولیں ’’یو راسکل‘‘ تم جاسوسی کرتے ہوئے آخر یہاں تک آن پہنچے پھر میرے اصرار پر انہوں نے بتایا کہ یہ ٹھیک ہے بھٹو صاحب نے اس گھر میں پہلی بار اس وقت آنے کا پروگرام بنایا تھا جب ’’مو‘‘ کو انہوں نے اقوام متحدہ جانے والے وفد میں شامل کروادیا تھا۔ شاید میرے شوہر کی موجودگی میں وہ تکلف محسوس کرتے۔ پنجاب گورنمنٹ کے ایک سیکرٹری پہلی بار حُسنہ شیخ کو لاہور ایئرپورٹ سے لے کر میرے ہاں پہنچے تھے وہ کراچی سے آرہی تھی اور بھٹو صاحب بعدازاں اسلام آباد سے لاہور آئے۔ حُسنہ شیخ سے میری پہلے سے گپ شپ تھی لہٰذا انہوں نے مجلس کو گرما دیا۔ ہم دونوں بھٹو صاحب کی آمد کا انتظار کرنے لگے۔ حُسنہ شیخ کی گفتگو بہت دلچسپ ہوتی تھی میں نے بہت کہا کہ کافی کے علاوہ بھی کچھ کھا لیں مگر حُسنہ کہنے لگیں میرا صاحب تو آ جائے۔ رات کے 11 بج گئے پھر میرے فون پر اطلاع آئی کہ مہمان آرہے ہیں۔ پھر کوئی آدھ گھنٹہ بعد بھٹو صاحب دو گاڑیوں کے چھوٹے سے قافلے میں آن پہنچے۔ ایک گاڑی تو گھر کے باہر ہی کھڑی رہی دوسری اندر آئی۔ بھٹو صاحب نے بڑے خلوص سے میرا شکریہ ادا کیا اور کہنے لگے شاہین! آج سے تم بھی ہمارے دوستوں میں شامل ہوگئی ہو۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ میرے لئے فخر کا مقام ہے پھر وہ حُسنہ کی طرف مڑے اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ دونوں بہت خوش تھے۔ میں انہیں اپنے بیڈروم میں لے گئی اور کہا جناب! یہاں ریلیکس کریں پھر میں باہر آگئی اور ان کے کھانے پینے کا سامان ٹرالی پر بھجوایا۔ بعدازاں اس خیال سے کہ کوئی ملازم وغیرہ مجھ سے کچھ پوچھنے اندر نہ آجائے میں دروازے کے باہر بڑی مستعدی سے کرسی پر بیٹھ گئی جہاں مجھے کئی گھنٹے ’’چوکیداری‘‘ کرنا پڑی۔ میں نے پوچھا کہ مجھے اتفاق سے حُسنہ شیخ اور بھٹو صاحب کے تعلق کے بارے میں کچھ پڑھنے کا موقع ملا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حُسنہ شیخ اور بھٹو کی ملاقات حُسنہ شیخ کی بیٹی ’’چنن‘‘ کی شادی کے موقع پر ہوئی تھی۔ میں حیران ہوں کہ بھٹو صاحب خود اتنے خوبرو تھے ملک میں ان کی اتنی شہرت تھی۔ ان کی اپنی پارٹی میں ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت اور جوان لڑکیاں موجود تھیں پھر انہوں نے بنگال کی اس پہلے سے شادی شدہ خاتون سے دوستی کیوں کی جو عمر میں بھی کچھ کم نہ تھی۔ میرے سوال پر شاہین ناراض ہوگئیں اور کہنے لگیں تمہارا یہی مسئلہ ہے۔ ظاہر میں پڑھے لکھے ہونے کے باوجود میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ تم اندر سے پینڈو ہو اور بڑے گھرانوں کے آداب سے یکسر ناواقف ہو جب میں نے ان کے اٹیک کا صبر سے مقابلہ کیا اور کہا میں نے کب کہا کہ میں پینڈو نہیں ہوں مجھے میرے حال پر چھوڑو میں نے ہنستے ہوئے کہا اب میری کافی عمر بیت چکی ہے باقی بھی گزر ہی جائے گی۔ آپ یہ بتاؤ کہ آخر بھٹو صاحب نے حُسنہ میں کیا خوبی دیکھی۔ شاہین بولی تم ایک بار بھی حُسنہ سے نہیں ملے اس لئے اندازہ نہیں کرسکتے کہ وہ کس قدر جاذب نظر اور شیریں کلام تھیں۔ بھٹو صاحب سیاست کی دنیا سے تنگ آجاتے تھے یا جب انہیں کوئی پریشانی لاحق ہوتی تھی تو وہ اس طرح حُسنہ سے ملاقات کے لئے بے چین ہوجاتے اور حُسنہ سیاسی گتھیاں یوں سلجھاتی تھیں کہ بھٹو صاحب کے اعصاب پرسکون ہوجاتے۔ حُسنہ کی معلومات غضب کی تھی اور وہ پارٹی پالٹیکس سے لے کر پاکستان کے بیرونی دنیا سے تعلقات تک انتہائی باخبر خاتون تھی۔ ’’میں نے پوچھا کیا بھٹو صاحب صرف ایک بار آپ کے ہاں آئے تھے؟ شاہین نے جواب دیا چار یا پانچ مرتبہ آئے تھے۔ صرف پہلی ملاقات کے علاوہ باقی ساری ملاقاتیں ’’مو‘‘ کی موجودگی میں ہوئی تھیں۔ مو بہت مینرز والا آدمی ہے وہ کبھی بھٹو صاحب کی موجودگی میں پاس نہیں آیا۔ بھٹو صاحب دروازے پر ہلکے سے دستک دیتے تو میں سمجھ جاتی کہ انہیں کسی چیز کی ضرورت ہے۔ میں نے کچھ اور سوالات پوچھے تو شاہین بھڑک اٹھی اس نے کہا بس اپنی حد میں رہو میں نے جتنا بتانا تھا بتا دیا میں نے کہا تصویر دو جس کے لئے میں آیا ہوں۔ شاہین ایک البم اٹھا لائی اور بڑی مشکل سے ایک گروپ فوٹو ملا جس میں حُسنہ شیخ شاہین اور اس کی کچھ دوستوں کے ساتھ کھڑی تھی اور عقب میں روشنیاں نظر آرہی تھیں۔ میرے اصرار کے باوجود شاہین نے مجھے بڑی احتیاط سے قینچی سے کاٹ کر صرف حُسنہ کا چہرہ دیا اور کہا یو ییلو جرنلسٹس ۔ شاہین نے مزید کہا کہ کوئی گندی بات نہ لکھنا۔ تم مڈل کلاسیئے اس تعلق کو نہیں سمجھ سکتے جو بھٹو صاحب اور حُسنہ کے درمیان تھا۔ گہری دوستی‘ سچی رفاقت‘ ایک دوسرے کے دکھ میں شریک وہ دونوں ننھے معصوم فرشتے تھے جنہیں ڈیپ انڈر سٹینڈنگ نے باندھ رکھا تھا۔ پھر میں نے کوئی سوال کیا تو شاہین بولی اگر تم یہ گفتگو بند کرکے کچھ اور سوال پوچھو گے تو میں یہ تصویر بھی واپس لے لوں گی میں نے کہا آخری سوال۔ کیا بھٹو صاحب کی حُسنہ سے شادی ہوئی تھی یا نہیں شاہین ہنسی اور اس نے کہا ‘ کیا بیوقوفی کی باتیں کرتے ہو۔ شادی سے بہت بڑھ کے‘ مگر تم اندر سے مولوی ہو اس لئے تم اس تعلق کو نہیں پہچان سکتے۔ میں واپس آ گیا۔ خاکوانی ڈرائنگ روم کے دوسرے کونے میں صوفے پر بند آنکھوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے ہماری گفتگو میں کوئی حصہ نہ لیا۔ ’’صحافت‘‘ کے ٹائٹل پر کسی پہلے پاکستانی اخبار یا رسالے نے حُسنہ شیخ کی تصویر چھاپی ٹائٹل پر لکھا تھا حُسنہ شیخ کون ہے؟‘‘ ایک بار پھر حُسنہ پر خبریں آنے لگیں اور مہینے ڈیڑھ مہینے تک تمام مضامین اور خبروں کے ساتھ ’’صحافت‘‘ کے ٹائٹل سے اٹھائی ہوئی وہی تصویر چھپتی رہی حتیٰ کہ کراچی کے ایک ’’ایوننگر‘‘ نے نئی تصویر کہیں سے ڈھونڈ نکالی۔ بھٹو صاحب کی پہلی ملاقات حُسنہ سے ڈھاکہ میں ہوئی تھی جب وہ وزیر تھے اور حُسنہ عبدالاحد نامی بزنس مین کی بیوی تھی۔ اس کی دو بیٹیاں تھیں اورکچھ برس بعد کراچی میں ان کی ایک بیٹی چنن کی شادی ہوئی جس میں بھٹو صاحب بھی شامل تھے۔ 1971ء میں سقوط ڈھاکہ کے بعد حُسنہ نے شیخ عبدالاحد سے طلاق لے لی اور کراچی چلی آئیں۔ 1973ءکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بھٹو صاحب عمرے کے لئے جانے لگے تو مولانا کوثر نیازی نے ازراہ مذاق یہ کہا کہ جناب آپ اللہ کے گھر جا رہے ہیں حُسنہ صاحبہ سے اپنا تعلق لیگل کرلیں۔ بھٹو صاحب مان گئے اور کوثر نیازی کا کہنا ہے میں نے بڑی سادگی سے ان کا نکاح پڑھایا تھا لیکن کسی طرح یہ اطلاع بیگم نصرت بھٹو تک پہنچ گئی اور انہوںنے نیند کی گولیاں کھالیں۔ بھٹو صاحب بہت پریشان ہوئے اور جب ان کی حالت سنبھلی تو انہوں نے یقین دلایا کہ آپ میری قانونی بیوی ہیں اور فرسٹ لیڈی ہی رہیں گی۔ حُسنہ کو کراچی میں ”منزل“ نامی گھر میں شفٹ کردیا گیا۔ بھٹو صاحب کے دوراقتدار میں متعدد وزراءان سے ملنے اس ”منزل“ نامی گھر میں جاتے تھے۔ حُسنہ جو بہت حسین بنگالی خاتون تھیں ان کی آواز ہوسکی تھی۔ بھٹو صاحب کی خواہش کے مطابق حُسنہ نے اپنا نام بدلنے کی کبھی کوشش نہ کی اور ہمیشہ حُسنہ شیخ ہی رہیں۔ بھٹو صاحب کے سارے قریبی جاننے والے اس بات سے آگاہ تھے۔ سندھ انتظامیہ کی طرف سے گھر کی دیکھ بھال کی جاتی تھی اور لان اور باڑ کی صفائی بھی سرکاری اہلکاروں کے ذمہ تھی۔ کراچی میں حُسنہ نے ایک ٹریول ایجنسی چلائی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ایک فائیوسٹار ہوٹل میں پارٹنر تھیں ان کی والدہ انڈین تھیں اور کلکتہ کی رہنے والی تھیں جبکہ باپ بنگالی تھا۔ دو بھائی تھے جو حُسنہ کے ساتھ ہی پاکستان آگئے تھے۔ اس کا ایک بھائی کراچی میں ایک ملز کا مالک تھا جبکہ دوسرا حُسنہ کے ساتھ ہی بھٹو صاحب کے بعد لندن چلا گیا۔ حُسنہ کی بیٹی چنن کی شادی پر نور جہاں اور مہدی حسن نے بھی گیت گائے تھے۔ مولانا کوثر نیازی کا ایک انٹرویو جو میں نے ان کی پیپلزپارٹی سے علیحدگی کے بعد کیا اس میں بھی کوثر نیازی نے حُسنہ اور بھٹو کی شادی اور نکاح کا ذکر کیا ہے۔ سٹینلے والپرٹ کی ایک کتاب میں بھی حُسنہ شیخ کا تذکرہ موجود ہے اور یہ لکھا ہے کہ 1961ءمیں بھٹو صاحب کی ڈھاکہ میں اس سے ملاقات ہوئی تھی جب وہ مرکزی وزیر تھے اور ان کی عمر 34 سال تھی۔ حُسنہ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بھٹو صاحب میری خوبصورتی سے نہیں بلکہ میری ذہانت سے متاثر ہوئے تھے۔ سٹینلے والپرٹ نے لکھا ہے حُسنہ اور بھٹو صاحب کے مابین ذہن‘ جسم اور روح کا تعلق تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 1990ءتک حُسنہ کا کچھ مشترکہ بزنس سندھ کے سابق وزیراعلیٰ جام صادق مرحوم سے بھی تھا۔ بھٹو صاحب جیل میں تھے تو حُسنہ نے عرب امارات کے سربراہ شیخ زید بن سلطان النہیان سے بار بار ملاقاتیں کیں اور ان سے درخواست کی کہ بھٹو صاحب کو رہا کروائیں لیکن انہیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ شیخ زید نے کوشش بھی کی مگر ضیاءالحق نہ مانے‘ مرتضیٰ بھٹو نے اپنے والد کی رہائی کے لئے جو مہم چلائی اس کے لئے حُسنہ نے عرب ریاستوں کے سربراہوں سے فنڈز بھی حاصل کئے اور آخر میں مایوس ہوکر وہ دبئی سے لندن چلی گئیں تاہم دبئی ان کا دوسرا گھر رہا ہے کیونکہ شاہی خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات بھٹو صاحب ہی نے قائم کروائے تھے۔ حُسنہ شیخ کے بارے میں مجھے خاص معلومات کوثر نیازی نے اس وقت فراہم کیں جب وہ بینظیر بھٹو صاحبہ کے ساتھ اپنی زندگی کے آخری الیکشن میں پیپلزپارٹی میں دوبارہ شامل ہوئے۔ پیپلزپارٹی میں واپسی کے باوجود بینظیر بھٹو صاحبہ کا دل کوثر نیازی کی طرف سے صاف نہیں ہوا۔ الیکشن جیت جانے کے بعد انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کا سربراہ بنا دیا گیا۔ میری ان سے آخری ملاقات تین ساڑھے تین گھنٹے پر محیط تھی۔ انہوں نے ٹیلی فون پر مجھے دعوت دی تھی کہ میرا جی آپ سے ملنے کو چاہتا ہے۔ آپ اسلام آباد میرے گھر پر آﺅ۔ میں گیا تو نہ وہ بہت آزردہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرپرسن نے مجھے دل سے معاف نہیں کیا۔ یوں تو بہت سے انکلوں کو انہوں نے حکومت سے باہر رکھا ہے۔ لیکن مجھ سے شاید انہیں زیادہ ناراضی ہے۔ کوثر نیازی نے کہا کہ دراصل بے نظیر مجھ سے اس لئے ناراض تھیں کہ ان کی والدہ مجھ سے ہمیشہ خفا رہیں اور ان کا خیال تھا کہ میں نے حُسنہ شیخ سے بھٹو صاحب کی شادی کروائی ہے اور میرے اوپر ایک سوتن کو لا بٹھایا ہے۔ پھر کوثر نیازی نے مجھے تفصیل کے ساتھ یہ واقعہ سنایا۔ انہوں نے کہا میں نے تو نیک نیتی سے کہا تھا برسوں سے بھٹو صاحب شادی کے بغیر ہی حُسنہ شیخ کے بہت قریب تھے اور میں سمجھتا تھا کہ میرا لیڈر اسلامی احکام کے مطابق باقاعدہ نکاح کرلے۔ میں بہرحال ان کی بھلائی چاہتا تھا۔ حالانکہ بیگم نصرت بھٹو خود جانتی تھیں کہ ان دونوں کے تعلقات کس قدر مسلمہ اور قریبی تھے۔ پھر وہ بولے شاید خدا نے مجھے اس کام کے لئے منتخب کیا ہے یہ ادارہ یعنی اسلامی نظریاتی کونسل جو مولویوں سے اپنی جان چھڑانے کے لئے حفیظ پیرزادہ نے آئین میں رکھوایا تھا وہ دائرہ کار اور اختیارات کے سبب کچھ نہ کرسکا۔ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ مولانا! آپ کو جو موقع ملا ہے آپ سیاست پر لعنت بھیجیں اور کونسل میں رہتے ہوئے دل و جان سے اسلام کی خدمت کریں۔ میں نے کہا کہ حُسنہ شیخ اور بھٹو صاحب کا معاملہ بھی اللہ پر چھوڑیں کوثر نیازی کہنے لگے کہ یقین مانو کہ یہ سب کچھ مذاق ہی مذاق میں ہوا تھا۔ لیکن میری نیت نیک تھی۔ کوثر نیازی سے آخری ملاقات بہت دلچسپ تھی کہ نکاح پڑھوانے والا بھی میرے سامنے تھا اور ہر بات تسلیم کررہا تھا۔ بہت وقت گزر گیا اللہ تعالیٰ کوئی غلطی ہوئی ہے تو بھٹو صاحب اور کوثر نیازی‘ دونوں کو معاف کرے۔ حُسنہ شیخ کے بارے میں آخری معلومات بہت اہم ہیں اور عام لوگوں کو ان کے بارے میں کم ہی معلوم ہے کہ دبئی سے لندن جانے کے بعد وہ کیا کرتی رہیں۔ بھٹو صاحب کی زندگی میں وہ مسلسل ان کی رہائی کے لئے کوشاں رہیں بعد میں انہوں نے کچھ عرصہ شدید پریشانی کے عالم میں گزارا۔ پھر لندن سے اردو میں روزنامہ ”ملت“ شائع کرنا شروع کیا ظاہر ہے کہ وہ اخبار نویس نہیں تھیں صرف فنانسر تھیں۔ جن لوگوں کے سپرد اخبار کی ادارت عملاً تھی وہ پیشہ وارانہ اعتبار سے زیادہ مضبوط نہیں تھے۔ انہوں نے مولانا کوثر نیازی کے بارے میں ایک سٹوری شائع کی کہ وہ ”لوطی“ ہیں۔ برطانیہ کے قوانین انتہائی سخت ہیں اور اگر آپ نے جو تحریر چھاپی ہو اسے ثابت نہ کرسکیں اور مقدمہ کرنے والا اپنی عزت کی قیمت جتنی مقرر کرے عام طور پر اس رقم کی ڈگری ہوجاتی ہے۔ کوثر نیازی نے یہی دھمکی دی تھی کہ میں آپ کا اخبار تک بکوا دوں گا۔ مجھے رقم یاد نہیں لیکن اچھی خاصی مقدار تھی اور واقعی ان مالی مشکلات کی وجہ سے ”ملت“ بند ہوگیا۔ کہتے ہیں آج کل حُسنہ شیخ نے سیاسی لوگوں سے ملنا جلنا ترک کررکھا ہے اور وہ انتہائی سادگی اور گوشہ نشینی کی زندگی بسر کررہی ہے۔ حُسنہ شیخ بھٹو صاحب کی بیوی تھیں یا یہ محض الزام تراشی ہے اس کا فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ تاہم حقیقت یہی ہے کہ بھٹو صاحب نے کبھی اسے اون نہیں کیا۔ شاید شادی نہ ہو اور صرف حلقہ احباب میں شامل ہوں۔

متعلقہ خبریں